اہم خبریں

پی ایم اے ،یونیسیف کاسیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں بچوں کی صحت پراظہارتشویش

کراچی(نیوزڈیسک)بچوں کی صحت و تعلیم سے وابستہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے مشترکہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے بچوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی ہنگامی حالت کے اعلان کے چار ماہ بعد بھی یہ معصوم بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں اور زیادہ تر نمونیا سے مر رہے ہیں۔دونوں تنظیموں کے مطابق آلودہ اور ٹھہرے ہوئے پانی کے قریب رہنے والے بچے زیادہ بیمار ہورہے ہیں۔ پی ایم اے اور یونیسیف نے متاثرہ علاقوں میں پھنسے 40 لاکھ سے زائد بچوں پر اپنی گہری فکرمندی اور تشویش کا اظہار کیا کہ ان معصوم بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔پی ایم اے کے مطابق قومی ہنگامی حالت کے اعلان کے چار ماہ بعد بھی یہ معصوم بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں اور زیادہ تر نمونیا سے مر رہے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق، 2021 کے مقابلے میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے اور ان میں سے بہت سے بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور انہیں فوری استعمال کی معالجاتی غذا (RUTF) کی اشد ضرورت ہے ۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی صحت کی یہ تاریک تصویر ہماری حکومت کی ناقص کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔پی ایم اے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے بچوں کی زندگیوں اور صحت کو بچانے کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کرے۔

متعلقہ خبریں