اسلام آباد ( اے بی این نیوز )العزیز سٹیل ملز ریفرنس میں بھی نواز شریف کو ریلیف مل گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں بری کر دیا،،احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر محفوظ فیصلہ سنا دیادوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیےمفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے انکے والد کا کاروبار تھا، نواز شریف کو عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی،، العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو10سال کیلئے نا اہل قرار دیا گیا تھا�العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی ، مل کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کے ذمہ ہیں،شریف خاندان کے مطابق سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا ، نیب کےمطابق سعودی سرمایہ کاری کے دعوی کے دستاویزی ثبوت موجود نہیں لہذا شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم لے جا کر سرمایا لگایا، ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف کو گردانا، نیب نے دعوی کیا کہ نواز شریف نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ،لیکن سماعتوں کے دوران نیب الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی















