اہم خبریں

سانحہ جڑانوالہ،جے سالک نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے، تمام مذاہب کے علمائے دین پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جو باہمی مشورت سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئےاقدامات کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز دے اور ان پر عملدرآمد کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے ، ان سفارشات میں حضور پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے اس معاہدے کو سامنے رکھا جائے جو انہوں نے مسیحیوں کے ساتھ کیا تھا تاکہ اس سے پہلے سے موجود مذہبی حساسیت کےقوانین کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے، اس کے ساتھ ساتھ کسی مذہبی توہین کے واقعہ میں اگر الزام غلط ثابت ہو تو اس شخص پر بھی اسی قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے ، جےسالک نےان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر سانحہ جڑانوالہ کیخلاف سیوئیرپاکستان کے زیر اہتمام مسیحی برادری کے احتجاجی مظاہرین سے امریکی ریاست واشنگٹن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا، انکا مزید کہنا تھا کہ 16 اگست 2023ءمسیحیوں کیلئے پاکستان کی تاریخ کا ہولناک دن تھاجب 21 گرجا گھروں، تین آسمانی کتابوں توریت ، زبور اور بائبل اور مسیحیوں کے47 گھروں کو نذر آتش کیا گیا ، اگرچہ مسیحی آبادی کے لحاظ سے اقلیت میں ہیں تاہم بحیثیت پاکستانی آئین پاکستان کی روسے حقوق میں دیگر پاکستانیوں کے برابر ہیں،چند شرپسند عناصر توہین مذہب کے نام پر ملکی حالات خراب کر رہے ہیںجس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جڑانوالہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کرکے ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر مثال قائم کی جائےتاکہ آئندہ کسی کو بھی اس طرح کی جرآت نہ ہو سکے،نذر آتش کئے جانیوالے گرجا گھر اور متاثرین کے گھر وں کو دوبارہ تعمیر کروایا جائے،حکومت مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے،اس حوالے ے حکومت کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،سابق چیف جسٹس تصد ق جیلانی کے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 2014 ء کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔

متعلقہ خبریں