اہم خبریں

صدر مملکت بل دستخط معاملہ، کسی قسم کا کوئی بھونچال نہیں آیا، صورتحال سب واضح ہے، نگران وزیر اطلاعات

اسلام آباد (اے بی این نیوز     )صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا،صدر نے پارلیمان کی طرف سے بھیجے گئے دو بلوں سے متعلق ٹویٹ کیا، کسی قسم کا کوئی بھونچال نہیں آیا، صورتحال سب واضح ہے، ضروری ہے کہ قانونی نکات کی وضاحت کی جائے، نگران حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتا، ہمارا مینڈیٹ محدود ہے، صدر مملکت وفاق کے سربراہ ہیں، ان کی تعظیم ہم سب کے دلوں میں ہے،صدر مملکت کا ٹویٹ دو قوانین سے متعلق ہے، نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی اور نگران وفاقی وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے کہا کہ صدر مملکت نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل اور آفیشل سیکریٹ (ترمیمی) بل 2023ءسے متعلق ٹویٹ کئے،پاکستان آرمی بل (ترمیمی) بل 27 جولائی 2023ءکو سینیٹ سے پاس ہوا،ایوان صدر کو یہ بل 2 اگست کو موصول ہوا،آفیشل سیکرٹ (ترمیمی) بل یکم اگست کو قومی اسمبلی نے منظور کر کے سینیٹ کو بھجوایا،سینیٹ نے اس بل پر کچھ آبزرویشنز لگا کر قومی اسمبلی کو بھیجا، قومی اسمبلی نے اس بل کو 7 اگست کو منظور کیا،صدر مملکت کو پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2023ء2 اگست کو اور آفیشل سیکرٹ (ترمیمی) بل 2023ءایوان صدر کو 8 اگست کو موصول ہوا،جب کوئی بل صدر کو بھیجا جاتا ہے تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں،پہلا اختیار صدر اس بل کی منظوری دے دیں، دوسرا اختیار یہ ہے کہ صدر کی اگر کوئی آبزرویشنز ہیں تو تحریری انداز میں بھجوائی جائیں،آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں، یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کے لئے 10 دن کا وقت آئین میں تعین کیا گیا ہے،صدر مملکت کے پاس 10 دن کا وقت تھا۔ صدر مملکت نے ماضی قریب اور ماضی بعید میں بہت سے قوانین میں اختیارات کو استعمال کیا،صدر نے بہت سے قوانین میں آبزرویشنز دیں اور بل واپس بھی بھجوائے،آج سے پہلے ایسی کوئی صورتحال ہمارے سامنے نہیں آئی کہ ایوان صدر سے بغیر دستخطوں کے کوئی چیز واپس گئی ہو۔

متعلقہ خبریں