اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیارنے کہاہے کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے حقوق نسواں سے متعلق نمایاں چیلنجز پر قابو پانے میں مددملے گی، ڈیجیٹلائزیشن رپورٹ پر مبنی قومی پالیسی فریم ورک ہمیں رپورٹ میں نمایاں چیلنجز پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ بنانے میں مدد کرتا ہے،خواتین سے متعلق قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو)نے یو این ڈی پی، یو این ویمن، یو این ایف پی اے اور جاز پاکستان کے تعاون سے قومی پالیسی فریم ورک بنانے اور’’ڈیجیٹلائزیشن اینڈ ویمن ان پاکستان‘‘ رپورٹ لانچ کے حوالے سے دو روزہ پروگرام مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا،این سی ایس ڈبلیو نے یو این ڈی پی، یو این ویمن، یو این ایف پی اے اور جاز کے ساتھ ملکر ’’پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن اور خواتین‘‘ملک بھر میں ایک مشاورتی عمل کے نتیجے میں، سرکاری اور نجی شعبے، سول سوسائٹی، اکیڈمی، میڈیا اور تھنک ٹینک کے ساتھ مل کر ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے،یہ رپورٹ 8 مارچ 2023 کے نیویارک میں ہونے والی تقریب کے دوران خواتین کے سٹیٹس سے متعلق کمیشن کے 67 ویں اجلاس میں پیش کی گئی تھی،کانفرنس کے پہلے دن متعلقہ سرکاری محکموں کے صوبائی نمائندوں کو صنف اور ڈیجیٹل تقسیم سے متعلق قومی پالیسی فریم ورک تیار کرنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا،خواتین کے نمائندے ترقیاتی محکموں، سماجی بہبود کے محکموں، صوبائی کمیشن برائے وقار نسواں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے، منصوبہ بندی اور ترقیاتی محکموں اور پاکستان کے تمام صوبوں کے تکنیکی تعلیم کے محکموں کے نمائندگی کر رہے تھے،کانفرنس کے دوسرےدن چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیارنے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن رپورٹ پر مبنی یہ قومی پالیسی فریم ورک ہمیں رپورٹ میں نمایاں چیلنجز پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ بنانے میں مدد کرتا ہے،پریزینٹیشنز کے بعد یو این ڈی پی، یو این ویمن، یو این ایف پی اے کے ملکی نمائندوں اور جاز موبیلنک کے سی ای او نے پیش کردہ پالیسیوں پر اپنے ریمارکس پیش کئے اور ملک میں صنفی تقسیم کو کم کرنے کی طرف کام کرنے کی ان کے اندر ان کے تعاون کو یقین دہانی کرائی۔















