کوئٹہ(نیوزڈیسک)بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کوئٹہ میں اہم بیٹھک ہوئی۔ عسکریت پسندی ترک کرنے والے گلزار امام شنبے کی بھی شرکت۔ شرکاء نے کہا کسی کو بھی پر امن اور خوشحال بلوچستان کا ویژن ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے۔جمالی آڈیٹوریئم کوئٹہ میں ہونے والی تقریب میں سینٹر انوار کاکڑ، سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو سمیت 100 سے زائد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔شرکاء نے عسکریت کا راستہ ترک کرنے والے بلوچ نیشنل آرمی کے سابق کمانڈر گلزار امام شنبے کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیا، کہا ہتھیار اٹھانے والوں کو بلوچستان اور اس میں بسنے والوں کی خوشحالی کیلئے ہتھیار پھینک کر کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے کہا مذاکرات کے خواہشمندوں کو حکومت کی طرف سے بات چیت کی دعوت دیتا ہوں۔ سینیٹر سرفراز بگٹی نے بات چیت اور مفاہمت کو صوبے کے امن کا واحد راستہ قرار دیا۔گلزار امام شنبے بولے میں مذاکراتی عمل کا حصہ ہی نہیں بلکہ اس کی بھرپور حمایت بھی کرتا ہوں، ہم سب کو اپنے اختیارات کے مطابق بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنا چاہیے۔سینیٹر انوار کاکڑ نے واضح کیا کہ کوئی بھی شدت پسند اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ ریاست سے جیت سکتا ہے۔ ریاست بات چیت کو فوقیت دے رہی ہے تو شدت پسندوں کو بھی صوبے کی بہتری کیلئے سوچنا چاہیے۔ظہور بلیدی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کواپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر شرکا کا کہنا تھا کہ امن ہی اصل گیم چینجر ہے۔















