اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر شہادت اعوان نے کہا ہے کہ پاسپورٹ کے معاملے پر بحث کا آغاز حالیہ قانون سازی کے بعد ہوا، جبکہ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت پاسپورٹ کے اجرا کے قواعد و ضوابط واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قواعد کے مطابق پاسپورٹ جاری کرنے کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے اور پاکستان میں ڈپلومیٹ، آفیشل اور عام پاسپورٹ کی تین اقسام موجود ہیں۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ @8 میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ پاسپورٹ رولز 2021 کا مطالعہ کرنے سے پورا معاملہ واضح ہو جاتا ہے، کیونکہ پاسپورٹ کا اجرا قانون اور مقررہ قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ رولز میں پارلیمنٹیرینز اور گریڈ 22 کے افسران کی کیٹیگری بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرین پاسپورٹ کا وقار اتنا بلند ہونا چاہیے کہ کسی اضافی پاسپورٹ کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ کی سہولت میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ اساتذہ قوم کی تعمیر کرتے ہیں جبکہ ڈاکٹرز کی خدمات بھی انتہائی اہم ہیں۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ پاسپورٹ رولز کے مطابق مختلف کیٹیگریز کے افراد کو آفیشل پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1974 کے پارلیمنٹ ایکٹ میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تعریف واضح کی گئی، جبکہ اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹیرینز کے طور پر قانون میں شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق 2018 کی ترمیم کے بعد سابق سینیٹرز کے پاسپورٹ سے متعلق بعض معاملات میں تبدیلی کی گئی، جن میں سینیٹرز کی خدمات اور ان کے اہل خانہ سے متعلق قوانین بھی شامل تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق حالیہ ترمیم صرف سابق سینیٹرز کے بچوں کی عمر کی حد سے متعلق ہے۔ ترمیم کے تحت سابق سینیٹرز کے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت کی عمر کی حد 28 سال تک کر دی گئی ہے، جبکہ والدین کے لیے یہ سہولت پہلے سے موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ترمیم کا مقصد سابق سینیٹرز کے اہل خانہ کے لیے موجود سہولت کو برقرار رکھنا اور نوجوان پارلیمنٹیرینز کے بچوں کو والدین کے ساتھ سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کے اہل خانہ سے متعلق قوانین میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی جاتی رہی ہیں اور پاسپورٹ سے متعلق تمام فیصلے قانون، قواعد و ضوابط اور خدمات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین پاسپورٹ پاکستان کی شناخت اور قومی وقار کی علامت ہے، اس لیے قومی پرچم سے منسلک اس پاسپورٹ کی عزت اور وقار کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جن لوگوں نے ملک اور قوم کی خدمت کی، انہیں مناسب سہولت دینا احترام کا اظہار ہے، جبکہ سرکاری افسران اور دیگر خدمات انجام دینے والوں کے لیے بھی واضح قواعد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سہولیات جاری رکھنے کے حوالے سے بھی پالیسی واضح ہونی چاہیے، تاہم اصل ترجیح گرین پاسپورٹ کے وقار اور عزت کو برقرار رکھنا ہے۔
مزید پڑھیں:بڑی خبر،بلیو پاسپورٹ قانون سازی پر ہمایوں مہمند کے اہم انکشافات















