اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے ہے کہ پیپلزپارٹی کو نتائج کو مسترد کرتے ہوئے تیسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی۔
اسلام آباد میں شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اگر انتخابات شفاف اور منصفانہ نہ ہوئے تو کوئی انہیں قبول نہیں کرے گا۔ ہم سیاسی کارکن ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ہم کہاں ہارے، کہاں ہم جیت رہے تھے، ہم جیت رہے تھے، آپ نے غلط کیا، ہمیں کہنا پڑے گا کہ آپ نے غلط کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے پر دکھ ہوا ہے۔ ہم نے پہلے مرحلے میں شواہد کے ساتھ ثبوت بھی دیے، ایک حلقے میں الیکشن نہیں ہوئے، کہا گیا کہ سامان نہیں پہنچا۔ کیا سامان الیکشن کے دن پہنچایا جاتا ہے؟ سامان ایک دن پہلے پہنچ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو مارا پیٹا گیا اور پولنگ اسٹیشنز سے باہر پھینک دیا گیا، اس کے بعد ہم نے ن لیگ کے ساتھ مل کر کمیٹی بنائی، ہم نے سوچا کہ اس مرحلے میں الیکشن کمیشن محتاط رہے گا، دوسرے مرحلے میں بھی وہی ہوا جو پہلے مرحلے میں ہوا۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ن لیگ ہماری اتحادی ہے لیکن یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا ن لیگ کو یہ سب پسند ہے؟ کیا یہ شفاف انتخابات ہیں؟ الیکشن کمیشن نے پانچ سال میں صرف الیکشن کو شفاف بنانا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن نے کسی ایک معاملے پر ایکشن نہیں لیا، الیکشن کمیشن ہماری مخالف جماعت کے زیر اثر ہے، انتخابات شفاف نہ ہوئے تو کوئی یقین نہیں کرے گا، جس طرح سے انتخابات ہوئے اس سے لگتا ہے کہ پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ اسپیکر اور قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ہوا۔ چوہدری لطیف اکبر کو ن لیگ والوں نے اٹھایا، گالیاں اور گھونسے مارے، آپ کہتے ہیں لڑائی ہوئی۔ اگر 70 سال کے بوڑھے کو ڈنڈے سے مارا جائے تو کیا یہ قتل نہیں؟
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حلقہ کھوڑہ میں ہمارے 40 سالہ کارکن کو قتل کر دیا گیا، یہ کس قسم کے الیکشن ہیں جن سے عام ووٹر سخت ناراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوٹلہ کے حلقے میں الیکشن نہیں ہوا کیونکہ وہاں انتخابی سامان نہیں پہنچ سکا۔ مواد پہنچانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، بازل نقوی کے حلقے کے کئی پولنگ اسٹیشنز پر بھی الیکشن روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابی عمل پر شدید اعتراض ہے، یہ مینڈیٹ جعلی ہے، ن لیگ حالات کو مزید تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، اس سارے معاملے کے ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر ہیں۔
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم مرکز میدان جنگ بن گیا،دو گروپوں میں تصادم، کارکنان زخمی















