اسلام آباد (اے بی این نیوز)ہماری معیشت میں بہت ٹھہراؤ ہے پینک مت پھیلایا جائے کہ ڈیفالٹ کر جائیں گے،یہ سخت وقت ضرور ہے مگر ہم باؤنس بیک کریں گے،اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پوسٹ بجٹ سیشن سے متعلقہ تقریب سےوزیر مملکت اشفاق یوسف تولہ نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ سپر ٹیکس ایک دو سال برداشت کرنا پڑے گا،7E,CVT وغیرہ سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے ہم فی الحال کچھ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ 76 لاکھ این ٹی این ہولڈر ہیں، 36 لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرنز فائل کرتے ہیں، ایک لاکھ ستائیس ہزار لوگ جو ساڑھے تین فیصد بنتے ہیں ملک کا نوے فیصد ٹیکس دے رہے ہیں،ٹیکس ٹو جی ڈی پی چھ سال قبل تک بڑھ رہا تھا کیونکہ اکانومی مستحکم تھی،میں نے ماضی میں تین دن میں پراپرٹی ویلیوایشن کروائی ہے،چھوٹے تاجروں کیلئے ٹیکس ایمنسٹی تب ہوجاتی تو آج دستاویزی معیشت کیساتھ ہم بہت آگے ہوتے، چھوٹے تاجروں نے بیس لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کا وعدہ کیا مگرصرف نو ہزار لوگ آئے،اپنے آفس میں میں نے کم سے کم تنخواہ چالیس ہزار پچھلے سال کر دی تھی۔















