اہم خبریں

زرعی شعبے کیلئے انقلابی پیکج دیا گیا ہے، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(اے بی این نیوز   )وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کے وسیع تر مفاد میں سسکتی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے دن رات کام کیا، زرعی شعبے کے لئے انقلابی پیکج دیا گیا ہے، بیج، زرعی آلات، آئی ٹی اور نوجوانوں کے لئے مراعات دی گئی ہیں، معیشت کی بہتری کا سفر جاری رہے گا، سیاست میں لاقانونیت اور بے لچک رویئے نہیں رکھے جاتے بلکہ مذاکرات اور حالات کے مطابق فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، جمہوریت میں دروازے ایک دوسرے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب ہمیں حکومت ملی تو معیشت سسک رہی تھی، ہمیں اس پر بات کرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، 2017 میں ایک ایڈونچر کیا گیا، اس وقت پاکستان دنیا کی معیشت میں 24 ویں نمبر پر تھا اور پاکستان جی 20 میں شامل ہونے کے لئے تیار تھا، ڈالر 106 روپے پر تھا، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے کم تھیں، شرح نمو خطے میں سب سے بہترین تھی۔ انہوں نے کہا کہ پھر نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا، ان کی حکومت کو ختم کر کے جمہوری عمل کو ڈی ریل کیا گیا جس کو آج ہم بھگت رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں سب سے زیادہ قرضے لئے، یہ قرضے گزشتہ 70 سال میں لئے گئے قرضوں کا 80 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد تحفظات کے باوجود شہباز شریف نے میثاق معیشت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام سے معیشت مستحکم ہوتی ہے، معاشی استحکام کے لئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے، میثاق معیشت کے دعوے کا مذاق اڑایا گیا، ہم نے ایوان میں گزشتہ حکومت کے آئی ایم ایف کے سخت شرائط پر معاہدے کی مخالفت کی، انہوں نے معاہدہ کیا اور اس پر عمل نہیں کیا جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے، موجودہ حکومت نے ملک کے وسیع تر مفاد میں سسکتی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے دن رات کام کیا۔ معاشی ٹیم نے مستحق اور کمزور افراد کے لئے گنجائش پیدا کی، بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھایا گیا، ملک بھر میں بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا جس کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا، قوم نے اس صورتحال کا بہادری سے مقابلہ کیا، آئین پاکستان میں لازم ہے کہ اس پر خلوص نیت اور یکسوئی سے عمل کرنا چاہیے، سیاست میں لاقانونیت اور بے لچک رویئے نہیں رکھے جاتے بلکہ مذاکرات اور حالات کے مطابق فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چھینو اور جھپٹو کی ذہن سازی کی، 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، قوم نے جوانمردی اور جرا?ت سے اس مشکل صورتحال کا سامنا کیا، یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر بنا ہے اور ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ، نوجوانوں، کھیت مزدوروں اور گھریلو ملازمین تک کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں گریڈ 1 سے 16 تک 35 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مزدور کی کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، صوبے بھی اب اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لئے انقلابی پیکج دیا گیا ہے، بیج، زرعی آلات، آئی ٹی اور نوجوانوں کے لئے مراعات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل صورتحال کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے، اس میں بہتری کے حوالے سے اراکین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے، معیشت کی بہتری کا سفر جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں