اہم خبریں

پی ڈی ایم حکومت کا بھی وہی حشر ہو گا جوپی ٹی ا آئی کا ہوا ہے،سراج الحق کو اے بی این نیوز کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد (اے بی این نیوز     )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ اس وقت پر جو بھی ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار تو وزیر اعظم ہی ہیں کیونکہ جو بھی ہوتا ہے اس پر وزیر اعظم کے دستخط ہو تے ہیں،موجودہ اور سابقہ حکومت بے نقاب ہو گئی ہیں،عوام پر یہ بوجھ ہے،وزرا کی فوج در طفر موج رکھ لی ہے،یہ حکومت کی ناکامی ہو تی ہے کہ سب خوش رہیں، جب پی ٹی آئی کی طرح یہ حکومتنہیں چل رہی، ہر طرف نگران حکو مت ہے، ان کوکوئی نہیں جانتا اور وزرا بھی گھر سے نہیں نکلتے ایسے میں حالات کا ایک ہی حل ہے کہ انتخابات ہو جائیں، وہ اے بی این نیوز کو انٹرویو دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی مرضی سے پنجاب اور کے پی کی حکومتیں ختم کیں یعنی کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ان کی اپنی مرضی سے ہو رہا ہے ،ہم نے بھی کوشش کی کہ الیکشن ہوں، جو مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا اچانک ختم ہوا اور پھر نو مئی کا سانحہ در پیش ہو گیا ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت الیکشن کے سوا کو ئی حلنہیںہے، اگر الیکشن نہیں ہو تے تو حکومت ملک کو دلدل سے نکالنا چاہتی ہی نہیں ہے،الیکشکمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی تاریخ رکھے جس پر ساری جماعتیں متفق ہوں، انہوں نے کہا کہ الیکش کے حوالے سے خراب پریکٹس صرف ہمارے ملک میں ہی ہو تی ہے اسی وجہ سے یہاں جمہوریت پنپتی ہی نہیں، الیکٹرانک مشین کا نام ہی سنا ہے دیکھی نہیں اگر اس دن بجلی چلی گئی پھر کیا ہو گا، پوری تیاری کر کے اس کا تجربہ کر نا چاہئے،پہلے بلدیاتی الیکشن میں اس کا تجربہ کیا جائے، انہوں نےکہا کہ معاشی ناکامی ہمارے ملک کی سب سے بڑی ناکامی ہے آج کل وہ ملک طاقت ور ہو تا ہے جس کر نسی مضبوط ہو،ہمیں سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی،علامہ اقبال نے 1931میں سود کے خلاف کہا تھا کہ اس کو ختم کرنا ہو گا،ہمیں موقع ملا تو سودی نظام کو ختم کر کے زکوت کا نظام لے کر آئیں گے،پھر ہم انصاف پر توجہ دیں گے،یہ حکمران انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہے،پھر دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میںنہ ہو ہم غریب اور امیر پر برابر ٹیکس لاگو کریں گے،ہم ایجوکیشن پر فوکس کریں گے، ہم چاہیںگے کہ احتساب ہو، بیرونی دنیا میں پاکستانی ان مما لک کے قانون کا احترام کرتے ہیں مگر اپنے ملک میں ایسا نہیں کرتے ہم آکر قانون کی بالادستی قائم کریں گے، امیر جماعت اسلامی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہانگیر ترین اپنی ذات میں شریف آدمی ہیں اب انہوں نے جو کام کیا ہے وہ اس میں پھنس گئے ،ان کے پاس سارے چلے ہو کارتوس ہیں ان کے پاس سیاسی خانہ بدوش ہیں وہ اپنے آپ کو الیکٹیبل سمجھتے ہیں لیکن اب میرٹ پر عواقم فیصلہ کرے گی،جو جماعت آجائے کو ئی تبدیلی نہیں آئے گی، انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی کو بڑا نقصان ہوا کیونکہ اہم لوگ پی ٹی آئی کو چھوڑ گئے، ہمارا ایک منشور ہے،نظریہ ہے لیکن وہ افراد کے آنے جانے سے بدلتا ہی نہیں ان لوگوں کی سیاست فرد کے گرد گھومتی ہے،خاندانوں کی سیاست افراد کے ادھر ادھر ہو نے فرق پڑتا ہے، پی ٹی آئی نے اپنے خلاف خود ہی اقدامات کئے ہیں،اگر آج یہ سارے قومی اسمبلی میں ہو تے تو اچھی اپوزیشن ہو تی،ابھی آپ دیکھیں کہ جہانگیر ترین کی جماعت سے اور بھی دھڑے نکلیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیم اداروں میں جو الیکشن ہو تے ہیں وہاں جماعت اسلامی ہی جیتے گی یعنی کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی جماعت ہے لیکن ریا ستی دباو سے ہماری جماعت کو دیوار سے لگا یا گیا،عوام جماعت اسلا می کو پسند کرتے ہیں ہماری جماعت جمہوریت پسند ہے، میر ا کو ئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ہے لیکن آج آپ دیکھ لیں،عافیہ صدیقی کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہون نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے موثر کردار ادا کرے، پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس اور ابھی نندن کو چھوڑا،اوبامہ کے دور میں ہمارے حکمران اگر سنجیدگی سے بات کرتے تو عافیہ رہا ہو جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنا ہی مذہب کے نام پر،میں سمجھتا ہوں کہ آئین کہتا ہے کہ قران اور سنت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالادست ہے، انہوں نے کہا کہ سیاست کی بھی اقسام ہیں کہ ایک سیاست بھلائی کی اور ایک سیاست ذاتی مفاد کیلئے ہو تی ہے، اگر آپ دین کی بات نہیں کر رہے تو آپ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ،عمران خان جو کہتے تھے ان کو وہ کرنا بھی چاہیئے تھا، جو بات کرتے تھے اس پر عمل کریں، فضل الرحمان پی ڈی این کا امام ہے وہ پی ڈی ایم کا گند صاف کرے گا ،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ عمران خان اپنا وقت پورا کرتے لیکن زرداری اور شہباز کو جلدی تھی کہ وہ حکومت میں آئیں اور اپنے کیسز ختم کریں ۔پی ڈی ایم حکومت کا بھی وہی حشر ہو گا جوپی ٹی ا آئی کا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں