ؒخرطوم(نیوزڈیسک) سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان خونریز لڑائی کا آج ساتواں روز جاری۔عید الفطر کی صبح خرطوم کے لوگ گولیوں کے شور، توپوں ، میزائلوں اور جنگی طیاروں کی خوفناک گھن گرج سے جاگ اٹھے،لوگ فائرنگ کے شور میں عید کی تکبیروں ادا کرتے رہے ، تشدد ، سکیورٹی کی ابتر صورتحال، آمدورفت میں خلل، نقل و حرکت میں رکاوٹ اور مسافروں کی ہلاکت کے افسوس ناک واقعات کے باعث شہر مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ تہوار کی خوشی کی جگہ دہشت اور خوف کی کیفیت نے لے لی تھی۔سعودی اخبار العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خرطوم کے شہریوں نے خود کو بڑی جیل میں قید پایا، جہاں گولیوں کی بارش،انسانوں ، جانوروں ، درختوں اور پتھروں میں فرق کیے بغیر برس رہی تھی۔خرطوم کے الگ الگ علاقوں میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں عید کی نماز رہائشی محلوں کے اندر چوکوں اور عوامی مقامات مپر ادا کی گئی، جب کہ مختلف علاقوں میں لوگوں نے عید کی نماز مساجد کے اندر ادا کی۔تاہم بہت سے لوگ نماز عید ادا کرنے سے قاصر رہے۔خرطوم شمالی کے علاقے شمبت کے ایک عینی شاہد نےسنٹرل مارکیٹ کے علاقے اور شمبات کے البرحہ اسپتال کے قریب شہریوں کو خوفناک حالات کا سامنا کرنے کی تفصیلات بتائی، جہاں فوجی کارروائیوں نے انہیں گھروں میں رہنے پر مجبور کیا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ یہ پرتشدد فوجی آپریشن صبح تک جاری رہا، اس لیے کوئی بھی نماز پڑھنے کے لیے باہر نہیں جا سکا۔سناء قاسم السید، جو ام درمان کے مضافاتی علاقے الثورہ میں رہتی ہیں، نے بتایا کہ اس سال عید پرہر طرف پھیلی موت کے خوف نے خوشی غائب کردی۔ یہاں تک کہ سوڈان میں عید کی لیے مخصوص مٹھائیاں اور پکوان بھی اس بار غائب ہوگئے، دہشت اور خوف و ہراس کی کیفیت کے باعث زیادہ تر خاندانوں نے مٹھائی خریدنے یا گھر پر بنانے پر توجہ نہیں دی۔ زیادہ تر بازار اور دکانیں بند رہیں اور اشیائے خورونوش خاندانوں کی پہنچ میں نہیں ہیں۔سناء نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا: “یہاں تک کہ شہر کے اندر میرے بھائی کو، میں ہر سال کی طرح اس بار مل کر مبارکباد نہیں دے سکی، اور ہم سب نے فون کے ذریعے عید کی مبارکباد کا تبادلہ کر کے خود کو مطمئن کیا۔”















