اسلام آ باد (اے بی این نیوز)کشمیر کونسل کی ایک نشست پر انتخاب میں 5 ارکان کی بغاوت نے تحریک انصاف کو پریشان کر دیا، وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب میں بھی تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ کشمیر کونسل کی نشست تحریک انصاف کے رہنما سردار سیاب خالد کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ان کی نشست پر ان کے بیٹے سردار عدنان خالد کو تحریک انصاف نے امیدوار نامزد کیا جو پورے ووٹ حاصل نہ کر سکے۔عدنان رشید کے مقابلے میں اپوزیشن کے امیدوار طارق محمود کو 23 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کے قانون ساز اسمبلی میں 20 ارکان تھے۔ اس طرح کشمیر کونسل کی ایک نشست پر تحریک انصاف بمشکل 3 ووٹوں سے جیت سکی۔گزشتہ روز وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ ہونی تھی تاہم اس سے قبل کشمیر کونسل کی نشست پر ووٹنگ ہوئی جس میں تحریک انصاف کے امیدوار سردار عدنان خالد اپنی ہی جماعت کے 31 میں سے 26 ووٹ حاصل کر سکے۔ عدنان خالد کو 1 ووٹ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کی طرف سے ملا۔ اس طرح تحریک انصاف کے امیدوار کو اپنی ہی جماعت کے ووٹوں میں سے 5 ووٹ کم ملے۔اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف کے 6 باغی ارکان کے اپوزیشن سے معاملات طے ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے 6 ارکان اگر اپوزیشن کے وزیراعظم کے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں تو اپوزیشن اور تحریک انصاف کے 26، 26 ووٹ برابر ہو جائیں گے۔ ایسے میں سربراہ مسلم کانفرنس سردار عتیق کا ووٹ کافی اہمیت کا حامل ہو گا۔ یہی ایک ووٹ جیت کا فیصلہ کرے گا۔اسی غیر متوقع صورتحال کے باعث ہفتے کے روز وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب نہیں ہو سکا۔ تحریک انصاف کی جانب سے چوہدری محمد رشید کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا تو تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اعلان کرنا پڑا کہ پارٹی نے کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار کا اعلان چیئرمین تحریک انصاف خود کریں گے۔















