اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کی تین رکنی کمیٹی اتحادیوں سے ملاقاتوں کے لیے میدان میں نکل آئی ،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کی رہائش گاہ پہنچ گئے، پیپلزپارٹی کی تین رکنی کمیٹی جمہوری وطن پارٹی سے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سمیت دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا،قبل ازیں شاہ زین بگٹی نے تینوں سینیئر رہنماؤں کا استقبال کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں گے توتصادم کی صورتحال نہیں ہو گی، ڈیڈ لاک ہے ہم راستہ بنا رہے ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی،سید نوید قمر اور قمر زمان کائرہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ہیٹ بہت زیادہ ہے اس ہیٹ کو کم کرنے کے لیے سیاسی فورسز ہی کام کر سکتی ہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے آپس میں بات چیت کیلئے کمیٹی بنائی ،ہم کوئٹہ میں اپنی پارٹی کے لوگوں سے بات کرکے جواب دینگے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ایسا راستہ نکالنا ہو گا جس سے پائیدار ڈائیلاگ ہو، شاہ زین بگٹی سے اس حوالے سے درخواست کی ہے، دوسرے اتحادیوں کے پاس بھی جائیں گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے، اداروں کا تصادم ہو رہا ہے، سیاسی جماعتیں آپس میں ڈائیلاگ کرتی رہتی ہیں، محترمہ بے نظیرشہید نے بھی چارٹر آف ڈیموکریسی کیا، چارٹر آف ڈیموکریسی کی وجہ سے آج ملک میں جمہوریت ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی کو بھی جیل میں ڈالا گیا، اتحادی حکومت میں جو بھی کام ہو گا اتفاق رائے سے ہو گا، ہم ماحول بنا رہے ہیں۔شاہ زین بگٹی کا ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھاکہ آج پیپلزپارٹی کا وفد ملاقات کے لئے آیا،ملک کی صورت حال کسی سے چھپی نہیں ۔قمرزمان کائرہ کا کہنا تھاکہ جمہوریت ڈائیلاگ سے چلتی ہے ڈیڈلاک سے نہیں سیاسی جماعتوں اور اداروں کے اندر اختلاف ہے،سابق وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کی نمائندگی کرنے والا ادارہ پارلیمنٹ ہی سپریم ہے۔سیاسی و معاشی استعحکام کیلئے باہر نکلے ہیں۔قوم بھی سیاستدانوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ پہلے اپوزیشن کی بجائے اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کرینگے۔ہر ادارے کو آئین کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا۔















