اہم خبریں

پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا، حکومتی اتحاد

اسلام آباد( اے بی این نیوز    )حکمران جماعتوں کے رہنماؤں نےکہا ہے کہ پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔اسلام آباد میں حکمران جماعتوں کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل ابھی بنا نہیں اور 8 رکنی بنچ بنا دیا گیا، تمام جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ فل کورٹ بنایا جائے، عجلت میں درخواست دائر ہوئی اور بنچ بنادیا گیا۔اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے، عجلت میں درخواست دائر ہوئی اور بنچ بنا دیا گیا۔ عوام کے حق پر سمجھوتا نہیں ہونے دیں گے، کسی کو اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ پارلیمان کو قانون سازی سے روکا جائے۔ سلیکیٹو بنچ میں سینیارٹی کے تمام اصولوں کو نظر انداز کردیا گیا اور پک اینڈ چوز کے ذریعے 8 رکنی بنچ بنایا گیا۔ ادارے میں تقسیم کا تاثر کھل کر سامنے آگیا، توقع ہے کہ آج بنچ تحلیل کردیا جائے گا۔ قانون بن جائے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے، عدالتی اصلاحات بل پر کیس کا نہ وقت درست ہے نہ کیس چلایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار میں اداروں کی مداخلت ہے، کیا وجہ ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ججز کو بنچ میں موقع نہیں دیا گیا۔اس موقع پر اتحادی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بل ابھی پارلیمنٹ کے پاس ہے اور سپریم کورٹ نے ٹیک اپ کرلیا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کیا آپ پارلیمنٹ کو اپنے اختیار سے روکنا چاہتے ہیں، ہم ساری جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اختیار کے لیے جدوجہد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج یہ بنچ بنا کے پارلیمان کے اختیار کو روکنے کی جو کوشش ہو رہی ہے وہ قبول نہیں، ہم آج بھی کہہ رہے ہیں کہ بینچ بنانے کا طریقہ کار ٹھیک نہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ آج ڈھٹائی، ضد اور انا کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، بنچ کی لسٹ دیکھنے کے بعد لوگوں کا کیا تاثر تھا، اگر اسی طرح چلے گا تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں