اسلام آباد( اے بی این نیوز )جسٹس شاہد نے ریمارکس دیئےہیں کہ حافظ قرآن کیس میں وہ باتیں زیربحث آئیں جو کیس کا حصہ نہ تھیں۔جسٹس شاہد وحید نے پانچ صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔جسٹس شاہد وحید نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، از خود نوٹس میں وہ باتیں زیر بحث لائی گئیں جو کیس کا حصہ ہی نہیں تھیں۔جسٹس شاہد وحید نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ بنچز تشکیل دینا چیف جسٹس کا انتظامی اختیار ہے، سپریم کورٹ ازخود نوٹس نمبر 4/ 2022 میں قرار دے چکا کہ چیف جسٹس ہی بنچز بنانے کا اختیار رکھتے ہیں، ججز بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں اٹھا سکتے، اگر ججز کو بنچ کی تشکیل پر اعتراض تھا تو وہ کیس سننے سے معذرت کر سکتے تھے۔















