نیویارک (اے بی این نیوز) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا معاہدہ نہ ہونا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4.9 فیصد اضافے کے ساتھ 87.72 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 5.1 فیصد اضافے کے ساتھ 82.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اس اہم سمندری راستے سے تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے نقل و حمل میں رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے سے مارکیٹ میں دوبارہ تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا انحصار امریکا ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے پر ہوگا۔ اگر امریکا ایران کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:شام کی عدالت کا بڑا فیصلہ، بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی















