اہم خبریں

سرکاری ملازمین کے لیے بڑی سہولت، فلاحی گرانٹس کی درخواستیں اب آن لائن جمع ہوں گی

اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے فلاحی گرانٹس کے حصول کا طریقہ کار ڈیجیٹل بنانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے ملازمین شادی، تعلیمی وظائف اور دیگر فلاحی گرانٹس کے لیے گھر بیٹھے درخواستیں جمع کروا سکیں گے اور اپنے کلیمز کی صورتحال بھی آن لائن چیک کر سکیں گے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دستاویزات کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) فیڈرل ایمپلائز بینیوولنٹ اینڈ گروپ انشورنس فنڈز (FEB&GIF) کے لیے یہ ڈیجیٹل پورٹل تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد دستی درخواستوں کے نظام کو جدید آن لائن سہولیات سے تبدیل کرنا ہے۔

دستاویز کے مطابق FEB&GIF کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے 4 مارچ 2026 کو ہونے والے 131ویں اجلاس میں منصوبے کے لیے NITB کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی تھی۔ دونوں ادارے پورٹل کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے چکے ہیں، جبکہ پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔

نئے نظام کے تحت ملازمین اور مستحق افراد آن لائن درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق بھی کروا سکیں گے۔ اس کے علاوہ درخواستوں کی پیش رفت سے متعلق اطلاعات اور کلیمز کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

وزارت کی دستاویزات کے مطابق 31 اگست 2026 تک رواں مالی سال کے دوران پانچ فلاحی اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 8 ہزار 637 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 7 ہزار 231 درخواستوں پر کارروائی مکمل یا ادائیگی کا تصفیہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک ہزار 406 دعوے تاحال زیرِ التوا ہیں۔

ان درخواستوں میں شادی گرانٹس، الوداعی گرانٹس، تعلیمی وظائف، فیس کی واپسی اور ماہانہ فلاحی گرانٹس شامل ہیں۔

موجودہ طریقہ کار کے تحت مکمل دستاویزات کے ساتھ موصول ہونے والے فلاحی کلیمز نمٹانے کے لیے 45 دن مقرر ہیں، جبکہ نامکمل درخواستوں پر اعتراضات دور ہونے کے بعد کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر NITB مقررہ وقت میں پورٹل مکمل نہ کر سکا تو اس منصوبے کو مجوزہ انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) سسٹم میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے ملازمین کے فلاحی معاملات سمیت مالیاتی امور، انسانی وسائل اور درخواستوں کی خودکار پروسیسنگ کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ نیا پورٹل تاحال تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کے باضابطہ آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مزیدپڑھیں: ب فارم یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ کیسے حاصل کریں؟

متعلقہ خبریں