1. مستفید ہونے والے صارفین: ستمبر 2026 تک اس پیکیج سے مجموعی طور پر 209,335 صنعتی اور زرعی صارفین مستفید ہوئے، جبکہ اہل صارفین کی کل تعداد 518,316 تھی۔ اس طرح تقریباً 40 فیصد اہل صارفین نے اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا۔
2. بجلی کے یونٹس سے استفادہ: دسمبر 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران اس پیکیج کے تحت اضافی بجلی کے استعمال کی مد میں مجموعی طور پر 6,940 گیگا واٹ آور (GWh) بجلی فراہم کی گئی۔
3. مالیاتی ریلیف: اس پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی صارفین کو تقریباً 43.5 ارب روپے کا مالیاتی ریلیف فراہم کیا گیا۔
4. فی یونٹ ریلیف: صنعتی صارفین کو اضافی بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 5 سے 10 روپے تک کا فائدہ حاصل ہوا۔
5. بجلی کے بلوں میں کمی: اس پیکیج سے مستفید ہونے والے صارفین کے مجموعی بجلی کے بلوں میں اوسطاً 1.5 سے 2.5 روپے فی یونٹ تک کمی واقع ہوئی۔
6. پیکیج پر نظرثانی: موجودہ جنگی صورتحال کے باعث بجلی کی پیداوار کی اضافی (Marginal) لاگت میں اضافے کے پیش نظر اس پیکیج پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
7. مارجنل ریٹس میں اضافے کی وجوہات: اس نظرثانی کا بنیادی مقصد پیکیج کے تحت فراہم کیے جانے والے اضافی ریلیف کی لاگت کا بوجھ دیگر صارفین، بالخصوص ان صارفین پر منتقل ہونے سے روکنا ہے جو اس پیکیج سے مستفید نہیں ہو رہے۔ نظرثانی شدہ نرخوں کے ذریعے ایسے صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا جائے گا۔
8. نظرثانی شدہ نرخوں کے نفاذ کی تاریخ: نظرثانی شدہ مارجنل نرخوں کا اطلاق نومبر 2026 سے ہوگا۔
9. صنعتی بجلی کے نرخوں میں کمی: مارچ 2024 کے مقابلے میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں پہلے ہی تقریباً 18.94 روپے فی یونٹ (تمام ٹیکسز سمیت) کمی کی جا چکی ہے۔
10. اکتوبر 2026 میں صنعتی بجلی کا اوسط نرخ: اکتوبر 2026 کے دوران صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا اوسط نرخ 34.40 روپے فی کلو واٹ آور (ٹیکسز کے بغیر) رہا۔
ہونڈا سی ڈی 70 اب آسان اقساط پر دستیاب، ماہانہ قسط صرف 6,529 روپے سے شروع















