اہم خبریں

نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں بڑی رعایت

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے نئی آٹو پالیسی پاکستان کے تحت اہم سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق الیکٹرک وہیکلز کو خصوصی چھوٹ دی جا رہی ہے، جبکہ حکومت کا مقصد عام شہریوں کو سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں ماحول کے لیے فائدہ مند ہیں اور ان کے استعمال کو فروغ دینے سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر آنے والے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عام شہریوں، خصوصاً خواتین، کو بھی کم خرچ سفری سہولتیں میسر آئیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد بڑھائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے اس مقصد کے لیے 30 لاکھ روپے تک فنانسنگ کی سہولت موجود تھی، جسے اب بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ ادائیگی کی مدت بھی تین سال سے بڑھا کر تین سے پانچ سال تک کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ہارون اختر کے مطابق 50 ہزار ڈالر تک کی لگژری گاڑیوں کو بھی ڈیوٹی میں رعایت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے لیے تین، سات اور نو فیصد کی کیٹیگریز متعارف کرانے کا بتایا گیا ہے۔

مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کو سستا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی تیاری، برآمدات کے فروغ اور لوکلائزیشن کو اہمیت دی گئی ہے۔ پہلے سال برآمدات کے لیے پانچ فیصد ریوارڈ دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے۔ تاہم نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منظوری ابھی باقی ہے۔ اس لیے اعلان کردہ سہولتوں پر عمل درآمد کی حتمی تفصیلات پالیسی کی منظوری کے بعد واضح ہوں گی۔

متعلقہ خبریں