اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان کو اس وقت ماحولیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، اسموگ، پلاسٹک ویسٹ، پانی کی قلت اور جنگلات میں کمی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی مسائل نہ صرف قدرتی نظام بلکہ انسانی صحت، زراعت، معیشت اور شہری زندگی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
اکتوبر کا آغاز ہوتے ہی ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور اسموگ کا خطرہ ایک مرتبہ پھر نمایاں ہونے لگا ہے۔ پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 4 اکتوبر کو لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 133 ریکارڈ کیا گیا، جو ’’معتدل‘‘ سطح ہے، تاہم بعض علاقوں میں اے کیو آئی 150 سے تجاوز کر گیا۔
حکام کے مطابق گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، فصلوں کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں اور تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار فضائی آلودگی میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ پنجاب حکومت نے اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اسمارٹ مانیٹرنگ اور ڈرون نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا ہے، جبکہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان میں پلاسٹک آلودگی بھی ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ بارشوں کے دوران پلاسٹک بیگز اور ٹھوس کچرا نالوں اور نکاسی آب کے راستوں کو بند کر دیتا ہے، جس سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکومت نے پلاسٹک بیگز کے استعمال میں کمی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی اور متبادل ماحول دوست مصنوعات کے فروغ پر بھی زور دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی پاکستان میں زیادہ واضح ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی، ہیٹ ویوز، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کے دباؤ جیسے مسائل ملک کے مختلف حصوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکام نے مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ ریزیلینس اور سیلاب سے تحفظ کے منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ عوامی تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔ درختوں کی شجرکاری، پانی کا محتاط استعمال، پلاسٹک کے کم استعمال، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، گاڑیوں کے دھوئیں میں کمی اور فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز جیسے اقدامات ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ماحولیاتی نگرانی اور قوانین پر عملدرآمد کے اقدامات جاری ہیں۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے حالیہ مہینوں میں ٹائر جلانے والے یونٹس کے خلاف کارروائی، سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف اقدامات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے عوامی سماعتیں بھی کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں بلکہ طویل المدتی اور مسلسل حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت، صنعت، زراعت اور شہری معاشرہ مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو فضائی آلودگی، کچرے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔
پاکستان کا صاف، سرسبز اور محفوظ مستقبل اسی صورت ممکن ہے جب ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترجیحات میں مستقل بنیادوں پر شامل کیا جائے۔
مزیدپڑھیں :پاکستان میں موسم کی صورتحال، بالائی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان













