پشاور (اے بی این نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پارٹی اور سیاسی معاملات سمیت صوبائی حکومت کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے علی امین گنڈاپور کو موجودہ سیاسی صورتحال اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ہنگامی صورتحال اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں یہ امکان بھی زیر بحث آیا کہ اگر اسلام آباد مارچ کے معاملے کو آگے نہ بڑھایا جائے تو خیبر پختونخوا حکومت کو برقرار رکھنے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے پارٹی مفادات کو حکومت پر ترجیح دینے کا عندیہ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی صورتحال بند گلی میں پہنچتی ہے تو پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اسی حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو وہ اسمبلی توڑ سکتے ہیں۔
ملاقات میں اسمبلی تحلیل کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت نہ ہونے اور پارٹی قیادت سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے بعض پارٹی عہدیداروں کے حوالے سے سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں یہ امکان بھی زیر بحث آیا کہ اگر وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ آتا ہے تو علی امین گنڈاپور کے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی یہ تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ پارٹی کی تیاری مکمل ہے اور ضرورت پڑنے پر مختصر نوٹس پر احتجاج کے لیے نکلا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں بادل برسنے کو تیار، محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی















