اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے نے آبپارہ میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی پوسٹل اسٹیکرز کے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا، کیس میں 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران 16 نجی کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر کے مبینہ طور پر نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ وزارت خارجہ کے 6 افسران کے بھی مبینہ طور پر نیٹ ورک سے رابطے سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پوسٹل سروسز تیز کروانے کے نام پر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرتے تھے، جبکہ وزارت خارجہ کے بعض افسران کو مبینہ طور پر رشوت دیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

حکام کے مطابق آبپارہ کے ایف اینڈ ایف پلازہ کے بیسمنٹ میں کارروائی کے دوران سرکاری مہریں، اہم دستاویزات اور دیگر شواہد برآمد کیے گئے۔
جعلی پوسٹل اسٹیکرز کے مقدمے میں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور بدعنوانی میں ملوث نجی و سرکاری عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ویزا فراڈ کیس، حمزہ بٹ کے خلاف ایف آئی اے ٹیم سے مبینہ بدسلوکی، کارروائی کے لیے درخواست دائر















