اہم خبریں

قائمہ کمیٹی کی رکن کا سانحہ پمز کے معاملے پر بڑا انکشاف سامنے آگیا

قائمہ کمیٹی کی رکن کا سانحہ پمز کے معاملے پر بڑا انکشاف سامنے آگیا

اسلام آباد (اے بی این نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے پمز اسپتال کی نرسری سے متعلق بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورے کے دوران معلوم ہوا کہ نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 بچے موجود تھے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے سوال اٹھایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بچوں کو لواحقین کے حوالے کیسے کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ پمز کے معاملے میں بچوں کی شناخت سمیت کئی اہم سوالات کے جواب سامنے آنا باقی ہیں۔

دوسری جانب سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بغیر واقعے کی انکوائری مکمل نہیں ہوسکتی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں اور انہوں نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں‌:بڑی سفارتی پیش رفت، پاکستان اور کویت میں اہم معاہدہ طے پاگیا

متعلقہ خبریں