اسلام آباد(اے بی این نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت نے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کے ارکان نے ڈاکٹر مہیش کمار کی قیادت میں پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، قائمہ کمیٹی کے ارکان نے انتظامیہ پر شدید تنقید کی اور آتشزدگی کی وجوہات پر سوال اٹھا دیے،
سربراہ قائمہ کمیٹی صحت مہیش کمار نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر صحت نے بیان دیا کہ پرانے اے سی سے سپارک ہوا، کوئی کہہ رہا ہے آکسیجن سلنڈر پھٹا ہے، کسی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ آگ کیسے لگی، کہا گیا وارڈ میں موجود اے سی کافی عرصے سے کام نہیں کررہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم تجربہ کار ڈاکٹرز پر مشتمل کمیٹی بنا رہے ہیں جو واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔
ممبر کمیٹی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا کہ ڈاکٹرز اور سٹاف کی جانب سے مختلف بیانات سننے کو ملے، وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز استعفیٰ دیں۔
قائمہ کمیٹی صحت کے سربراہ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے بھی انتظامیہ سے پوچھا گیا ہے کہ آیا اس سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ آگ اے سی سے شروع ہوئی تھی، لیکن فوٹیج میں بھی ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ نرسری کا موجودہ حصہ 1990 میں تعمیر کیا گیا تھا، جبکہ ہسپتال میں ایک نیا بلاک بھی حال ہی میں تعمیر ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں موجود ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ نرسری، جہاں انتہائی حساس حالت میں نومولود بچوں کو رکھا جاتا ہے، کے لیے نیا بلاک زیادہ موزوں تھا۔
ان کے مطابق نئے بلاک کو نرسری کے بجائے گائنی وارڈ کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ بچوں کو پرانے بلاک میں رکھا گیا، کمیٹی اس معاملے کا بھی جائزہ لے گی کہ نرسری کے لیے نئے بلاک کے بجائے پرانی عمارت کے استعمال کا فیصلہ درست تھا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر 24 گھنٹے میں قائم کی جانے والی کمیٹی کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا اور تمام متعلقہ حکام سے سوالات کے جوابات لیے جائیں گے، انہوں نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکانِ کمیٹی سمیت تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔
مزید پڑھیں: فتنہ الہندوستان سے وابستہ 9 دہشت گرد خواتین کے سرکی قیمتیں مقرر















