اہم خبریں

کراچی پولیس چیف آفس پر حملہ،آپریشن مکمل، تمام4 دہشت گرد مارے گئے

کراچی (نیوزڈیسک)کراچی کے علاقے صدر میں کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر نامعلوم ملزمان نے حملہ کردیا، شدید فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔ ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے تصدٍیق کی ہے کہ کراچی پولیس آفس پر حملہ ہوا ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے، حکام کے مطابق 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 16 زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) کار سوار سمیت 8 سے 10 دہشت گردوں کے داخلے کی اطلاعات ہیں۔ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ عمارت کا معائنہ کررہا ہے۔ڈی آئی جی، ایس ایس یو ڈاکٹر مقصود احمد کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس آفس میں جاری آپریشن مکمل ہوگیا، کلیئرنس آپریشن بھی پورا کرلیا گیا، تمام دہشت گرد مارے گئے۔تازہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایس ایس یو کی سواٹ ٹیم عمارت میں داخل ہوئی، رینجرز اور ایس ایس یو کمانڈوز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر شہنیلا نے تصدیق کی ہے کہ 2 پولیس اہلکار اور پولیس آفس کا ایک سینیٹری اہلکار جاں بحق ہوا جس کی لاشیں اسپتال لائی گئیں جبکہ اب تک 5 رینجرز، 3 پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت 16 زخمی جناح اسپتال کی ایمرجنسی منتقل کئے گئے ہیں۔ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ ہم اندر موجود ہیں، پہلی منزل کلئیر کرلی ہے، کے پی او کی چھت پر دہشتگرد مزاحمت کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، تعداد کا کچھ کہہ نہیں سکتے، دہشت گرد جدید اسلحے کے ساتھ موجود ہیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشت گرد عقبی راستے سے داخل ہوئے، کم سے کم 6 دہشت گرد کراچی پولیس آفس میں موجود ہیں۔اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) ترجمان کے مطابق رینجرز، پولیس اور کمانڈوز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، چوتھا فلور کلیئر کرلیا گیا، دہشت گرد عمارت کی چھت پر موجود ہیں۔ترجمان ایس ایس یو کے مطابق دہشت گردوں فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی سواٹ ایس ایس یو حاجی رزاق بھی زخمی ہوگئے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس ایس یو کے اسنائپرز اطراف کی عمارتوں پر تعینات ہیں جبکہ دیگر اہلکار زخمی پولیس اہلکاروں کو عمارت سے باہر نکال رہے ہیں۔آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ کے پی او آفس کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا، کلیئرنس آپریشن جاری ہے، اب تک 2 ڈی ایس پیز سمیت 20 اہلکاروں کو عمارت سے باحفاظت نکاا جاچکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پولیس کی وردی میں ملبوس ہیں، 2 حملہ آوروں کے خودکش جیکٹس پہنے ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، حملہ آور عمارت کی چھت پر موجود ہیں جبکہ کراچی پولیس آفس سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔کراچی پولیس آفس کے عقب سے ایک مشکوک گاڑی بھی ملی ہے، جسے چیک کرنے کیلئے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں، فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے تصدیق کی ہے کہ شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے۔ایدھی انفارمیشن سینٹر کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران فائرنگ سے ایدھی پوائنٹ کا رضا کار زخمی ہوگیا جسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی آفس پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈی آئی جیز کو اپنے زون سے پولیس نفری بھیجنے کی ہدایت کردی۔ان کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی آفس پر واقعہ ہوا ہے، وزیراعلیٰ خود مانیٹر کررہے ہیں، پولیس و رینجرز جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، دہشت گرد بچ نہیں سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے کسی بھی طرح کی رعایت نہیں برتی جائے گی، قانون نافذ کرنیوالے ادارے ان کا برا حشر کریں گے۔دہشت گرد حملے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ حملے کی اطلاع ملی ہے، ابھی نہیں پتہ کہ وہ کون لوگ ہیں۔ شہر بھر سے پولیس اور ریسکیو ٹیموں کو علاقے میں طلب کرلیا گیا ہے، فی الحال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔رپورٹ کے مطابق کے پی او کی لائٹس بند کردی گئیں، دروازے بھی بند ہیں، کسی کو اندر جاتے یا باہر آتے نہیں دیکھا گیا، اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی روک دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے دستی بم پھینکے گئے ہیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔شاہراہ فیصل پر پولیس آفس پر حملے کے بعد متبادل روٹ جاری کردیا گیا۔ شہریوں کو کہا گیا ہے کہ حفاظتی انتظامات کے تحت دیگر راستے استعمال کریں۔ٹریفک کو آواری سے کینٹ کی طرف اور تین تلوار کی طرف بھیج رہے ہیں، لکی اسٹار سے صدر کی طرف بھیج رہے ہیں اور نرسری سے آنے والی ٹریفک کو کورنگی روڈ کی طرف بھیج رہے ہیں۔کورنگی سے آنے والی ٹریفک کو ڈیفنس موڑ سگنل سے ہینو چورنگی کی طرف بھیجا جارہا ہے اور کنٹونمنٹ بورڈ جانب صدر دواخانہ کی طرف بھیج رہے ہیں۔کراچی پولیس آفس میں پولیس کے سینئر افسران اور اہلکاروں کی بھاری نفری موجود ہوتی ہے جبکہ یہ علاقہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں