لاہور (اے بی این نیوز) پنجاب حکومت نے گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری گندم کے ذخائر جاری کرنا شروع کر دیے۔
ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ نے کہا کہ فلور ملوں کو سرکاری گندم 3800 روپے فی من کے حساب سے جاری کی گئی، وقت کے ساتھ ساتھ گندم کی قیمت میں بتدریج کمی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آٹا اور گندم کو عام شہریوں اور غریب طبقے کی پہنچ میں رکھا جائے گا، پاسکو کی جانب سے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم حکومت پنجاب کو منتقل کی جا رہی ہے۔
امجد حفیظ نے کہا کہ صوبے میں گندم کی منتقلی کا مقصد وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنانا ہے،جبکہ حکومتی ذخائر کا اجرا مربوط حکمت عملی کے تحت جاری رہے گا۔
ڈی جی فوڈ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، صوبے میں آٹے اور گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بیکرز ایسوسی ایشن نے تندور بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے روٹی کی قیمت 25 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یونائیٹڈ بیکرز ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب اسلم گل نے کہا کہ موجودہ قیمت پر روٹی فروخت کرنا اب ممکن نہیں رہا لہٰذا ضلعی انتظامیہ فوری طور پر سادہ روٹی کی نئی قیمت 25 روپے مقرر کرے کیونکہ روٹی کی قیمت میں 9 روپے کا اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے۔
آفتاب اسلم گل نے مطالبہ کیا کہ اگر گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے، آٹے کی قیمت میں کمی کی جائے اور مناسب وزن کے آٹے کے تھیلے دستیاب ہوں تو روٹی بھی سستی فروخت کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں بارشوں کا نیا اسپیل داخل، آج موسم کی تازہ اپڈیٹ















