اہم خبریں

علی حیدرآبادی نے اہلیہ کو طلاق دیدی،ویڈیو بھی ریکارڈ کرلی

کراچی (اے بی این نیوز)پاکستان کے ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کری ایٹر علی حیدرآبادی اپنی اہلیہ کو طلاق دے کر ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔

علی حیدرآبادی گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پر مقبول ہیں، جبکہ ان کی شادی بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی تھی۔ ان کی اور اہلیہ زینب علی کے نکاح کی تصاویر اور شادی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔


دونوں میاں بیوی مشترکہ طور پر مختلف ویڈیوز اور کانٹینٹ بھی شیئر کرتے رہے، تاہم اب یہ جوڑا ایک بڑے تنازع کا حصہ بن گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق علی حیدرآبادی اور زینب علی کی ازدواجی زندگی بظاہر سوشل میڈیا پر نظر آنے والی خوشگوار تصویر سے مختلف تھی۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں علی حیدرآبادی کو اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران علی حیدرآبادی کی جانب سے طلاق دینے کا منظر سوشل میڈیا صارفین کے لیے غیر متوقع اور حیران کن ثابت ہوا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)


زینب علی کے علی حیدرآبادی پر الزامات
بعدازاں زینب علی نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی اور اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے ٹک ٹاکر پر سنگین الزامات عائد کیے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ویڈیو میں زینب علی کے ہاتھ پٹیوں میں بندھے دکھائی دیے۔

زینب علی کی مریم نواز سے تحفظ کی اپیل
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مجھے جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ علی حیدرآبادی مبینہ طور پر مجھے تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور بارہا طلاق اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

زینب علی کی مذکورہ ویڈیو وائرل ہوئی تو مریم نواز کی ٹیم سے حنا پرویز بٹ نے ان سے رابطہ کر کے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی، اس حوالے سے زینب علی نے ایک اور ویڈیو شیئر کر کے اپ ڈیٹ شیئر کی ہے۔

 

طلاق کے بعد علی حیدرآبادی کا مؤقف
ادھر علی حیدرآبادی نے بھی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے زینب علی کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔


انہوں نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ میں نے کبھی اپنی سابق اہلیہ پر جسمانی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی ان کی انگلی توڑی۔

ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ طلاق کی ویڈیو میں نے اپنی حفاظت کے لیے ریکارڈ کی تھی کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ مستقبل میں میرے خلاف ویڈیوز یا دیگر مواد استعمال کر کے مجھے بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Showbiz Spy (@showbizspy_)


انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو میں واضح ہے کہ میں کسی قسم کا تشدد نہیں کر رہا تھا، جبکہ ویڈیو کے آخر میں زینب اہلیہ اور دیگر افراد میرا موبائل فون لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

علی حیدرآبادی کے مطابق، ویڈیو ریکارڈ ہونے سے پہلے ہی میرا سامان پیک کر دیا گیا تھا اور مجھے گھر چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اگرچہ میں اپنی سابق اہلیہ کے گھر میں رہ رہا تھا، لیکن یہ ہماری باہمی رضامندی سے تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے مختلف مقامات پر گھر اور فلیٹ بھی کرائے پر لیے، تاہم زینب وہاں منتقل ہونے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ تین سالہ ازدواجی زندگی کے دوران ہم دونوں کے درمیان کئی بار اختلافات ہوئے، تاہم میں نے کبھی دھمکیاں نہیں دیں اور نہ ہی ان پر تشدد کیا۔

علی حیدرآبادی نے کہا کہ میں تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتا ہوں اور اگر کسی متعلقہ ادارے نے مجھے طلب کیا تو میں اپنے مؤقف کے حق میں تمام شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے 6 اضلاع میں گرین بس سروس کا افتتاح

متعلقہ خبریں