لاہور (اے بی این نیوز) پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم میں اہم تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ہر کرکٹر اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہتر کھیل سکے۔
ایک انٹرویو میں مائیک ہیسن نے کہا کہ تمام فارمیٹس کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا ایک ہی انداز اب کارگر نہیں رہا۔ ان کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کے ماہر کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے پر مجبور کرنے سے ان کی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے جب کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک نیا کنٹریکٹ ماڈل متعارف کرا رہا ہے جس کے تحت کھلاڑی مخصوص فارمیٹس میں مہارت حاصل کر سکیں گے جس سے مجموعی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔
مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ ماضی میں قومی ٹیم کی کامیابی کا تناسب بہت کم تھا تاہم حالیہ دنوں میں ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور جیتنے کا تناسب پہلے کے مقابلے میں کافی بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ آئی سی سی ایونٹس میں ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے تاہم ایشیا کپ میں قومی ٹیم نے توقع سے بہتر کھیلا اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔
ہیڈ کوچ نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئندہ ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے تقریباً 15 ماہ کا وقت ہے، اس دوران نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ ایک مضبوط اور متوازن سکواڈ تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایشین گیمز میں نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان، سری لنکا اور دیگر ٹیمیں سخت حریف ہیں اس لیے ہر مقابلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ٹیم کے بہترین کمبی نیشن پر توجہ دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:دوحہ میں اہم مذاکرات،ٹرمپ کا ایران بارے بڑا دعویٰ















