اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی حکومت کے قرضوں میں موجودہ دورِ حکومت کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اے بی این نیوز کو موصول ہونے والی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے اپریل 2026 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 17 ہزار 120 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
دستاویزات کے مطابق فروری 2024، جو نگران حکومت کا آخری مہینہ تھا، اس وقت وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے، جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی 26 ماہ کے دوران مقامی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروری 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 675 ارب روپے تھا، جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 58 ہزار 89 ارب روپے ہو گیا۔ اس طرح مقامی قرضوں میں 15 ہزار 414 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
اسی عرصے کے دوران وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں میں بھی ایک ہزار 706 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق فروری 2024 تک بیرونی قرضوں کا حجم 22 ہزار 134 ارب روپے تھا، جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 23 ہزار 841 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق مجموعی قرضوں میں اضافے کا بڑا حصہ مقامی قرضوں پر مشتمل ہے، جبکہ بیرونی قرضوں میں نسبتاً محدود اضافہ دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2024 نگران حکومت کا آخری مہینہ تھا، جس کے بعد موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا اور مذکورہ قرضوں میں اضافہ اسی دورانیے میں ریکارڈ کیا گیا.
مزید پڑھیں:پیپلز پارٹی کے مؤخرِ انتخابات مطالبے پر مسلم لیگ ن میدان میں آگئی















