اہم خبریں

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی کور کمیٹی کا سیاسی و انتظامی صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سے عام انتخابات کا شیڈول واپس لینے اور انتخابات موخر کرنے کا مطالبہ، پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا عام انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا مطالبہ، موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد مشکل قرار

اسلام آباد (رضوان عباسی) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی کور کمیٹی نے موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال کے تناظر میں الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سے اعلان شدہ عام انتخابات کا شیڈول واپس لینے اور انتخابات موخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب خان، سیکرٹری اطلاعات جاوید ایوب، سینئر وزیر میاں عبدالوحید، جاوید بڈھانوی، سردار ضیا القمر، چوہدری قاسم مجید، یاسر سلطان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز و محور ہمیشہ مسئلہ کشمیر رہا ہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران عوامی مسائل کے حل اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے جبکہ دوسری جانب ریاست کے اپنے شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔
چوہدری یاسین نے کہا کہ عام انتخابات کا شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا اور احتجاجی کال سے صرف تین روز قبل اس کا اعلان مناسب فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا تھا جبکہ صرف ایک آئینی معاملہ زیر بحث تھا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک ہفتے کی مہلت بھی مانگی گئی تھی، تاہم درخواست قبول نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں انتخابات کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول واپس لے اور تمام فریقین سے مشاورت کا عمل آگے بڑھایا جائے۔
چوہدری یاسین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی تصادم یا محاذ آرائی کے حق میں نہیں اور موجودہ حالات میں دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل مذاکرات، سیاسی اتفاق رائے اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔
سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب خان نے کہا کہ اخلاقی اور اصولی طور پر یہ مسئلہ پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ اٹوٹ ہے اور پاکستان سے علیحدگی کا تصور کسی کشمیری کے ذہن میں نہیں آ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات کا حل مذاکرات میں ہے اور ڈائیلاگ کا عمل ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔
سردار یعقوب خان نے کہا کہ نو جون کو احتجاج کی کال دی گئی تھی جبکہ پانچ جون کو انتخابی شیڈول جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب بھی گنجائش موجود ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا قابل قبول حل نکالا جائے۔
سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے اہم ضرورت ہے اور آزاد کشمیر مزید کشیدگی اور تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے، پاکستان کشمیریوں کی منزل تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات، افہام و تفہیم اور مشاورت میں ہے اور تمام فریقین کو بیٹھ کر قابل قبول حل نکالنا چاہیے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر پیپلز پارٹی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستی مفاد، امن و استحکام اور کشمیر کاز کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی#

مزید پڑھیں: آئندہ مالی سال میں 6 لاکھ سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ

متعلقہ خبریں