اہم خبریں

قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا

اسلام آباد (اے بی این نیوز) قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، سروے کے اہم نکات سامنے آگئے ، جی ڈی پی پونے چار فیصد کے قریب پہنچ گئی جبکہ زرعی پیدوار کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق ملک کا قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، جس سے قبل رواں مالی سال معیشت کی مجموعی کارکردگی اور آنے والے مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ کے اہم خدوخال کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو پونے چار فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ معاشی کارکردگی میں چھوٹی بڑی صنعتوں، تعمیراتی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی، تاہم بجلی، گیس اور فراہمی آب کے شعبوں میں معیشت پیچھے چلی گئی۔

اس کے علاوہ مہنگائی بڑھنے کی رفتار کسی حد تک قابو میں رہی، ترسیلاتِ زر تاریخی سطح پر پہنچ گئیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ برآمدات میں کوئی خاص بہتری نہ آسکی اور ٹیکس وصولی میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اقتصادی سروے کے مطابق کئی اہم شعبوں میں طے شدہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے، شعبہ پیداوار کا ہدف چار اعشاریہ سات فیصد تھا جس کے مقابلے میں شرح نمو چھ اعشاریہ چھ فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تعمیراتی شعبے میں ترقی کا ہدف تین اعشاریہ آٹھ فیصد تھا لیکن شرح نمو پانچ اعشاریہ سات فیصد تک جا پہنچی جبکہ مجموعی زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف چار اعشاریہ پانچ فیصد تھا تاہم شرح نمو دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی اور ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

زراعت کے ذیلی شعبوں میں کاٹن جننگ کا ہدف سات فیصد تھا جبکہ شرح نمو صرف صفر اعشاریہ صفر سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔

لائیو اسٹاک کی ترقی کا ہدف چار اعشاریہ دو فیصد تھا جس کے مقابلے میں شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی، چنے کی پیداوار میں پچاس اعشاریہ چار فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ملک میں گدھوں کی تعداد بڑھ کر اکسٹھ لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف چار اعشاریہ دو فیصد تھا جبکہ شرح نمو تین اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ توانائی و پانی یعنی بجلی، گیس اور واٹر سپلائی کا ہدف تین اعشاریہ پانچ فیصد مثبت تھا لیکن اس میں دس فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختلف شعبوں میں اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس مجوزہ بجٹ کے تحت انفراسٹرکچر کے لیے 602 ارب روپے، این ایچ اے اور مواصلات کے لیے 355 ارب 90 کروڑ روپے، سماجی شعبے کے لیے 180 ارب 60 کروڑ روپے، توانائی کے لیے 116 ارب روپے، کوئٹہ کراچی شاہراہ این-25 کے لیے 100 ارب روپے، اور آبی وسائل کے لیے 75 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح وفاقی تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کے لیے 74 ارب 50 کروڑ روپے، منصوبہ بندی کے لیے 54 ارب 60 کروڑ روپے، مہمند ڈیم کے لیے 26 ارب روپے، ریلوے ایم ایل ون کے لیے 25 ارب روپے، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب روپے، اور صحتِ عامہ کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 22 ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

دستاویز کے مطابق رواں سال ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ کام نہیں ہو سکا تھا، اسی لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں مواصلات، انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور،کالجز اور جامعات کیلئے گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان

متعلقہ خبریں