اہم خبریں

ہائیکورٹ کا بڑا اقدام،باروقت ایپ صارفین کو ریلیف مل گیا

اسلام آباد(اے بی این نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل لون ایپ باروقت سے متعلق ہزاروں متاثرہ قرض دہندگان کے لیے ایک اہم ریلیف کا راستہ کھول دیا ہے۔ عدالت نے سیڈکریڈ فنانشل سروسز لمیٹڈ کی ونڈنگ اپ کارروائی کے دوران آفیشل لیکویڈیٹر کو 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد قرض لینے والوں سے بقایا رقوم کی وصولی اور ان کے قرضوں کی کلیئرنس کا باضابطہ طریقہ کار وضع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اس پیش رفت میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی نئی انتظامیہ کے فعال کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس نے کیس کو مؤثر انداز میں فالو کیا، قانونی و ریگولیٹری کارروائی کو آگے بڑھایا اور کمپنی کی ونڈنگ اپ اور قرض دہندگان کے لیے ادائیگی و ریکارڈ کلیئرنس کا قابل عمل راستہ نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عدالت نے ایس ای سی پی، کریڈٹ بیوروز “تصدیق” اور “ڈیٹا چیک” کو ہدایت کی ہے کہ وہ آفیشل لیکویڈیٹر کے ساتھ مل کر ایسا نظام تیار کریں جس کے تحت صارفین اپنے بقایا قرضے جمع کرا کے اپنی ڈیفالٹ ہسٹری کلیئر کرا سکیں۔

یہ پیش رفت ان ہزاروں افراد کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے جو باروقت ایپ بند ہونے کے بعد غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے اور اپنے چھوٹے قرضے واپس کرنے اور کریڈٹ ریکارڈ صاف کروانے کے لیے کسی باقاعدہ فورم کے منتظر تھے۔

عدالت نے ایس ای سی پی کو اردو اور انگریزی اخبارات میں عوامی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ قرض دہندگان کو ادائیگی کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔ تمام رقوم آفیشل لیکویڈیٹر کے نامزد اکاؤنٹ میں جمع ہوں گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو بھی لیکویڈیشن عمل میں مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کمپنی کے مالیاتی اور قانونی معاملات کو حتمی طور پر نمٹایا جا سکے۔

باروقت پاکستان کی بڑی ڈیجیٹل لون ایپس میں شمار ہوتی تھی، تاہم کمپنی کو مبینہ AML اور کمپلائنس خلاف ورزیوں، سخت ریکوری طریقوں اور صارفین کی شکایات کے باعث شدید تنقید کا سامنا رہا۔ بعد ازاں ایپ غیر فعال ہوگئی تھی، جس کے بعد ہزاروں صارفین اپنے قرضوں کی واپسی اور ریکارڈ کلیئرنس کے معاملے میں مشکلات کا شکار تھے۔
مزید پڑھیں‌:حکومت نے 3 سرکاری بجلی کمپنیوں کی نجکاری کی منظوری دے دی

متعلقہ خبریں