اسلام آباد(اے بی این نیوز)ایچ ای سی نے پاکستان میں AI اور روبوٹکس پالیسی کی قیادت نسٹ کے سپرد کر دی۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے نسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر زاہد لطیف کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں کے لیے نیشنل چیئر مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستان میں مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اہم قومی اقدام کی قیادت نسٹ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق نیشنل چیئر ملک میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں پالیسی سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی، گورننس اور قومی سطح پر جاری تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ یہ چیئر نسٹ اسلام آباد کیمپس میں قائم ہوگی اور ماہرین پر مشتمل پینل کے ساتھ مل کر قومی حکمتِ عملی کی تشکیل میں کردار ادا کرے گی۔
یہ اقدام خصوصاً نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشیل انٹیلیجینس اور نشنل سینٹر آف روبوٹکس اینڈ آٹومیشن (NCRA) سمیت ایچ ای سی کے تحت قائم قومی مراکز کی کارکردگی، رابطہ کاری اور مستقبل کی سمت کے تعین پر توجہ دے گا۔
ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے اس ذمہ داری کو جامعہ کے تحقیقی اور علمی کردار پر اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں کی ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب جامعات، صنعت، حکومت اور ٹیکنالوجی ماہرین مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔ ان کے بقول یہ اقدام نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں قومی سطح پر مربوط پیش رفت کا موقع فراہم کرے گا۔
ایچ ای سی کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کو پاکستان میں علمیت پر مبنی معیشت، جدید خودکار نظاموں اور اختراعی ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ نیشنل چیئر ملکی نظام میں موجود ساختی کمزوریوں، انتظامی رکاوٹوں اور پالیسی خلا کی نشاندہی بھی کرے گی، جبکہ عالمی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع قومی فریم ورک تشکیل دینے کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید آٹومیشن کے میدان میں خطے کے مؤثر اور مسابقتی ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں ایرا نی پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے اضافہ















