اہم خبریں

بھارت کی آبی جارحیت پر پاکستان کا سخت ردعمل، چناب کا رخ موڑنے کی کوشش سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار

اسلام آباد (رضوان عباسی ) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں انتہائی اہم رہیں، جن میں وزیراعظم شہباز شریف کا چین کا سرکاری دورہ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بین الاقوامی سطح پر اہم ملاقاتیں اور یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین کے دورے کے بعد نیویارک میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں شرکت کی اور متعدد عالمی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا۔

طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالس نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں اجلاس میں شرکت کی، جہاں دوطرفہ تعلقات، انسانی حقوق، تجارت اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی اور جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ یروشلم کی تاریخی و قانونی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب کیے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ چناب کے پانی کا رخ موڑنے کا منصوبہ سندھ طاس معاہدے، ویانا کنونشن اور دیگر عالمی آبی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے اس حوالے سے پاکستان کو کوئی پیشگی اطلاع یا باضابطہ مشاورت فراہم نہیں کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی اور غذائی تحفظ کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا چناب سے سالانہ 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی ویاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ انتہائی تشویشناک ہے جبکہ سلال ڈیم میں سلٹ فلشنگ کا منصوبہ بھی سنگین خدشات کو جنم دے رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادانہ و غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین پراپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے، جبکہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی اور آزاد کشمیر کے شہری ذیشان میر کی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاری سمیت مختلف امور پر بھی حکومت سرگرم سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور آبی جارحیت سے باز رہنے پر مجبور کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔
مزیدپڑھیں: پاکستانی نظامِ انصاف کی عالمی سطح پر تعریف، ایلون مسک کا نام بھی زیرِ بحث

متعلقہ خبریں