اسلام آباد(رضوان عباسی )مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس بروقت نہ بلانے کے باعث آئین کی مسلسل خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سی سی آئی کے اجلاس کی مسلسل تاخیر کے بعث قومی نوعیت کے کئی فیصلے التواء کا شکار ہو چکے ہیں ، ذرائع کے مطابق ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود سی سی آئی کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکا، جبکہ موجودہ حکومت کے دو سال سے زائد عرصے میں کونسل کا صرف ایک اجلاس ہی منعقد ہوا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 154(3) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کم از کم ہر 90 روز میں ایک بار بلانا لازمی ہے، تاہم اس آئینی تقاضے کی بارہا خلاف ورزیاں کی جاتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی سی آئی کا آخری اجلاس 28 اپریل 2025 کو منعقد ہوا تھا۔
نواز شریف کا اہم اور بڑا فیصلہ،ن لیگ میں تبدیلیاں متوقع،جا نئے تفصیل
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران سی سی آئی کے اجلاس بروقت نہ بلانے پر آئین کی مجموعی طور پر 21 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی۔ 2010 سے اب تک مشترکہ مفادات کونسل کے مجموعی طور پر 41 اجلاس منعقد کیے گئے، تاہم 21 مواقع پر اجلاس آئینی مدت 90 روز کے اندر منعقد نہ ہو سکے۔
حاصل معلومات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی ساڑھے تین سالہ حکومت کے دوران آئین کی 6 بار خلاف ورزی ہوئی جبکہ اسی عرصے میں سی سی آئی کے 11 اجلاس منعقد ہوئے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت 2013 سے 2018 کے دوران 8 مرتبہ آئین کی خلاف ورزی ریکارڈ کی گئی جبکہ اس عرصے میں مشترکہ مفادات کونسل کے 16 اجلاس ہوئے۔
ایران نے مذاکرات، مزاحمت اور تصادم کے آپشنز کھول دیئے، صدر کا بڑا اعلان
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2010 سے 2013 کے دوران سی سی آئی کے 11 اجلاس منعقد ہوئے جبکہ اس مدت میں آئین کی 3 بار خلاف ورزی کی گئی۔
ذرائع کے مطابق نگران حکومت کے ساڑھے چھ ماہ کے دوران بھی مشترکہ مفادات کونسل کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا جبکہ اتحادی حکومت کے سوا سال سے زائد عرصے میں بھی سی سی آئی کا صرف ایک اجلاس ہی بلایا جا سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی، نگران اور موجودہ حکومتوں سمیت مختلف ادوار میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تاخیر کے باعث آئینی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔















