Donald Trump نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران، پٹرول ٹیکس اور عالمی صورتحال پر اہم بیانات دیے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ پٹرول پر عائد وفاقی ٹیکس کو عارضی طور پر معطل کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ ان کے مطابق 18 سینٹ فی گیلن ٹیکس مخصوص مدت کے لیے ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ ایران بالآخر ہتھیار ڈال دے گا جبکہ امریکا کسی بھی ممکنہ معاہدے تک تہران پر دباؤ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سخت گیر رہنما آخرکار پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
سوات سے افسوسناک خبر،جا نئے کتنا جا نی نقصان ہوا
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا سے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے کیونکہ ایران کے پاس اس حساس ایٹمی مواد کو منتقل کرنے کی مطلوبہ ٹیکنالوجی موجود نہیں۔
ٹرمپ نے “فریڈم پروجیکٹ” کی بحالی سے متعلق سوال پر کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
Donald Trump نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت اور متنازع بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی معاملے پر بات چیت کے لیے امریکی جنرلز ان کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی ناکہ بندی ایک “عظیم ملٹری منصوبہ” ہے اور اگر امریکا کارروائی نہ کرتا تو ایران پورے مشرق وسطیٰ اور یورپ کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت نے ماضی میں 42 ہزار مظاہرین کو قتل کیا
جبکہ ایران اب اپنے ایٹمی مواد کے حوالے سے مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران افزودہ جوہری مواد امریکا کے حوالے کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے پاس تباہ شدہ مقامات سے ایٹمی مواد نکالنے کیلئے مطلوبہ مشینری موجود نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی جدید ٹیکنالوجی صرف امریکا اور چین کے پاس ہے۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم یہ معاملہ فی الحال مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔















