ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، Iran USA Talks جہاں تہران نے امریکی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو ارسال کر دیا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ جواب ایک منظم ثالثی عمل کے تحت پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا، جس کے بعد آئندہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں عارضی مفاہمتی یادداشت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت جیسے نکات زیر غور ہیں۔ اس ابتدائی مرحلے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر جامع مذاکرات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عوام کیلئے بڑی خوشخبری، تیل سستا ہو گیا،جا نئے نئی قیمت بارے
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز پر حتمی مؤقف داخلی مشاورت کے بعد پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھایا گیا ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں اور بحری رکاوٹوں کے خاتمے کے بغیر مکمل مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور حالیہ پیش رفت میں بھی اس کی ثالثی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ایک طویل کشیدگی اور عسکری تناؤ کے بعد اب جنگ بندی کے بعد کا سفارتی عمل دوبارہ متحرک ہو رہا ہے، جس سے خطے میں استحکام کی نئی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں۔















