آبنائے ہرمز میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپوں Strait of Hormuz کی اطلاعات کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیںAbbas Araghchi جس کے بعد خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران ایک ایرانی ملاح شہید جبکہ دس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ چار افراد لاپتہ بھی ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ہمارےمیزائلوں اورلانچرکاذخیرہ28فروری کےمقابلے میں120فیصد ہے۔
واقعے کے بعد سمندری نقل و حرکت اور توانائی سپلائی روٹس پر اثرات کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی تیل اور تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی صورتحال عالمی منڈیوں اور خطے کی سکیورٹی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
آبنا ئے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری،ایک ایرنی ملاح شہید،دس اہلکار زخمی
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب بھی سفارتی حل میز پر آتا ہے تو امریکا فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے یا کسی کو نئی دلدل میں دھکیلنے کا نتیجہ ہے، لیکن وجوہات کچھ بھی ہوں نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایرانی قوم دباؤ کے آگے نہیں جھکتی۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی سے متعلق بعض دعوے غلط ہیں اور میزائلوں اور لانچرز کے ذخیرے سے متعلق اندازے حقیقت کے مطابق نہیں۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی تیاری انتہائی مضبوط ہے اور عوام کے دفاع کے لیے مکمل استعداد موجود ہے۔















