چارسدہ میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس پر ہونے والے مہلک حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آوروں کے نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہوئے ایک مرکزی ملزم کی شناخت کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کی گئیں، جن کی بنیاد پر ایک دہشتگرد کی شناخت ممکن ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ شناخت ہونے والا ملزم ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ ہے، جس کے بعد کیس کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران نے معاہدہ نہ مانا تو شدید بمباری ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی
تفتیشی ٹیم نے واقعے کے عینی شاہد اور مولانا ادریس کے ڈرائیور کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ کے اطراف سے حاصل ہونے والے موبائل ڈیٹا کی چھان بین کیلئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شواہد کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں مردان ریجن کے پرانے ہائی پروفائل کیسز میں ملوث مشتبہ افراد کو بھی دائرہ تفتیش میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ممکنہ روابط اور نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مولانا ادریس کی گاڑی کا تعاقب کرنے والے افراد کی پروفائلنگ جاری ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔














