اہم خبریں

امریکہ ایران کشیدگی،48 گھنٹے اہم،بڑا فیصلہ آنیوالا ہے،جا نئے تفصیل

امریکا اور ایران US-Iran کے درمیان جاری کشیدگی میں بڑی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم مفاہمتی مرحلے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم آئندہ 48 گھنٹوں میں فیصلہ کن پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے قریب ہیں، جس کے تحت نہ صرف جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی بلکہ مستقبل میں جوہری مذاکرات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ مجوزہ معاہدے میں تقریباً 14 نکات شامل ہیں جن میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی محدود کرنے جبکہ امریکا کی طرف سے اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔

ماہی گیروں کو فیول پر 51 کروڑ سے زائد سبسڈی مل گئی

اس پیشرفت کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی بھی ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی تھی۔ مجوزہ پلان کے تحت اس اہم عالمی گزرگاہ کو مرحلہ وار مکمل طور پر کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر مثبت اثرات متوقع ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات براہ راست اور ثالثی کے ذریعے جاری ہیں، جبکہ مجوزہ معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 30 دن کی جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک تفصیلی اور مستقل معاہدے پر بات چیت جاری رکھیں گے، جس میں جوہری پروگرام، سیکیورٹی خدشات اور اقتصادی معاملات شامل ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی قیادت نے خطے میں جاری بحری آپریشن عارضی طور پر روک دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جو اس کے قومی مفادات اور خودمختاری کے مطابق ہو۔

متعلقہ خبریں