امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےtrump اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت آج سے بحال کی جا رہی ہے، جس کا باقاعدہ آغاز امریکی وقت کے مطابق پیر کی صبح ہوگا۔ انہوں نے اس اقدام کو انسانی ہمدردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں پھنسے ہوئے بے شمار جہازوں اور عملے کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز میں متعدد غیر جانبدار ممالک کے جہاز کافی عرصے سے رکے ہوئے ہیں، جنہیں خوراک اور دیگر ضروری سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکا سے مدد کی درخواست کی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا غیر جانبدار ممالک کے جہازوں اور ان کے عملے کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا اور ان کے انخلا کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں جاری ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت سب کے لیے کسی بہتر اور تعمیری نتیجے کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسنے والے ممالک بے قصور ہیں اور ان کا اس کشیدگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے یہ آپریشن مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق پیر کی صبح شروع کیا جائے گا، جس کے تحت غیر جانبدار ممالک کے جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک بھی اس صورتحال میں پھنس گئے ہیں جو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور امریکا کے لیے بھی دوستانہ حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی مدد کرنا ایک ذمہ داری ہے۔















