اہم خبریں

پشاور ،بینک آف خیبر میں گورننس کا تنازعہ سامنے آیا ہے

پشاور(اےبی این نیوز) حکومت KPK بے بس؟ اپنے قانون پر عمل نہ کروا سکی؟70 فیصد شیئر ہولڈر… پھر بھی کنٹرول نہیں؟ ذرائع کے مطابق کیا بینک کا کنٹرول نجی ہاتھوں میں جا چکا؟حکومت KPK کے پاس بینک آف خیبر کے 70 فیصد سے زائد شیئرز موجود ہیں Ismail Industries Limited بینک کی بڑی نجی شیئر ہولڈر ہے ۔جنوری 2025 میں بینک آف خیبر ترمیمی ایکٹ نافذ کیا گیا ۔

اس قانون کے تحت نجی ڈائریکٹرز کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ ہوا ۔حکومت نے فروری 2025 میں اس قانون پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا ۔یہ ہدایت نجی شیئر ہولڈر کو بھی باضابطہ طور پر بھیجی گئی ۔نجی شیئر ہولڈر نے مارچ 2025 میں اس عملدرآمد سے انکار کیا ۔کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے پر عدالت جا سکتی ہے ۔

اگست 2025 میں محکمہ قانون نے اس ایکٹ کو آئینی قرار دیا۔ اس کے بعد بھی حکومت نے عملدرآمد کے مزید احکامات جاری کیے ۔ دسمبر 2025 تک بھی اس قانون پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا ۔

بینک آف خیبر کا بورڈ تاحال مکمل طور پر تشکیل نہیں دیا جا سکا ۔بورڈ کی نامکمل تشکیل کے باعث اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہیں ۔بینک کے بجٹ اور دیگر منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہوئے ۔

ذرائع کے مطابق بینک کی اعلیٰ سطح کی تقرریوں پر اختلاف موجود ہے ۔ذرائع کے مطابق نجی شیئر ہولڈر کا اثر و رسوخ فیصلہ سازی میں شامل ہے ۔نجی شیئر ہولڈر کا مؤقف ہے کہ موجودہ ڈائریکٹرز کی مدت 2027 تک ہے ۔حکومتی مؤقف ہے کہ نئی قانون سازی کے بعد بورڈ تبدیل ہو سکتا ہے ۔اگر قانون نافذ ہے تو عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟

کیا حکومت اپنے فیصلے پر عمل کروانے میں ناکام ہے؟کیا نجی شیئر ہولڈر قانون پر عملدرآمد روک رہا ہے؟ کیا بینک آف خیبر میں گورننس بحران پیدا ہو چکا ہے؟
مزید پڑھیں: بینک آف خیبر تنازع کیا نجی کمپنی حکومت پر بھاری؟

متعلقہ خبریں