فیول بحران کے باعث حج کرایوں( hajj )میں اضافے کا معاملہ بالآخر طے پا گیا ہے، جس کے تحت اضافی بوجھ کو مکمل طور پر عازمین حج پر منتقل کرنے کے بجائے اسے حکومت اور ایئر لائنز کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔( tickets)ذرائع کے مطابق ایئر لائنز کی جانب سے ابتدائی طور پر فیول چارجز کی مد میں 250 ڈالر اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم مذاکرات کے بعد اسے کم کر کے تقریباً 100 ڈالر تک محدود کر دیا گیا۔ اس اضافی لاگت کو آدھا ایئر لائنز اور آدھا وزارت مذہبی امور برداشت کرے گی، جس سے ہزاروں حاجیوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔
اطلاعات کے مطابق قومی اور نجی ایئر لائنز نے اس فیصلے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد حج آپریشن میں تاخیر کے خدشات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ ٹکٹوں کا اجرا بھی دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے
بڑی خبر،ٹرمپ کا جنگ بندی کا اعلان
تاکہ پروازوں کا شیڈول متاثر نہ ہو۔اہم انتظامی فیصلے کے تحت چونکہ بڑی تعداد میں سرکاری اسکیم کے حاجیوں کے پاس ای میل سہولت موجود نہیں، اس لیے ابتدائی پروازوں کے مسافروں کو ٹکٹ براہ راست ایئرپورٹ پر فراہم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکام نے عازمین حج کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے کم از کم آٹھ گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچیں تاکہ تمام ضروری مراحل بروقت مکمل کیے جا سکیں۔ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام پروازیں شیڈول کے مطابق مدینہ روانہ ہوں گی اور حج آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔















