اسلام آباد ( اے بی این نیوز )خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو لے کر صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں مختلف عالمی اور علاقائی قوتیں اس عمل پر اثر انداز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے بارہا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بعض فریقین مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ لبنان پر حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات امن کی کوششوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب یورپی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں مؤثر سفارتی حلقے یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ حد سے زیادہ عسکری کارروائیاں نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بعض عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف دفاعی مؤقف کافی نہیں بلکہ تمام فریقین کو تحمل اور توازن اختیار کرنا ہوگا۔
لبنان پر ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں انسانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوئی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی صورتحال مذاکراتی ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیتی ہے، کیونکہ اعتماد کی فضا پہلے ہی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو مذاکراتی کوششیں تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ امن کے امکانات بھی دباؤ میں رہیں گے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :لبنان کی پاکستان سے مدد کی پکار، خطے میں امن کیلئے سفارتی رابطے تیز، عالمی سطح پر اہم پیش رفت















