تہران (اے بی این نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایرانی حکام نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ حتمی مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے۔ اس پیش رفت نے خطے کی سیاست میں پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات حالیہ جنگ بندی اور پس پردہ سفارتی رابطوں کے بعد ہونے جا رہے ہیں جن میں نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔
اسلام آباد کو ان مذاکرات کے لیے منتخب کیا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی وزن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں پس پردہ رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اب اہم ترین مذاکرات کے لیے اس کے دارالحکومت کو چنا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات محض رسمی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے جہاں جنگ بندی کے بعد مستقل امن، عدم جارحیت کی ضمانتوں اور مستقبل کے تعلقات کے خدوخال پر بات ہوگی۔
سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بڑی پیش رفت ہوگی بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔ خطے کے کئی ممالک ان مذاکرات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے نتائج مشرق وسطیٰ کے مستقبل، عالمی تیل منڈی اور علاقائی اتحادوں پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے یہ موقع عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت منوانے کا ایک نادر لمحہ ہے۔ اگر یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اسلام آباد کو عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث اور قابل اعتماد سفارتی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر رضامند















