واشنگٹن ( اے بی این نیوز )امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایک اہم فوجی آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، جس کا مقصد ایک پائلٹ کو بحفاظت واپس لانا تھا۔ بیان کے مطابق اس آپریشن میں تقریباً دو سو فوجیوں نے حصہ لیا اور کارروائی انتہائی حساس حالات میں انجام دی گئی۔امریکی صدر کے مطابق یہ آپریشن ایران کے اندر کیا گیا جہاں امریکی فوجی داخل ہوئے اور اپنے پائلٹ کو بازیاب کروا کر واپس لے آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے مشن کے دوران کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا، حالانکہ انہیں شدید مزاحمت اور قریبی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا جبکہ ایک امریکی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ بھی کی گئی۔ صدر کے مطابق آپریشن کے دوران ایک طیارے کو نقصان پہنچا تاہم اسے چند منٹوں میں ہی دوبارہ فعال کر لیا گیا، جس سے مشن میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔
اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک ایف 15 طیارہ مار گرایا گیا جبکہ ایرانی افواج اپنے زخمی افسر کو تلاش کرتی رہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کو ہم ایک رات میں تباہ کر دینگے، ، اور یہ اقدام کسی بھی وقت ممکن ہے۔ ہو سکتا ہے وہ کل کی ہی رات ہو
امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ بظاہر بہتر ہیں لیکن انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی حالات کے مطابق طے کی جائے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان حالات نہایت حساس ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے دعوے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :موٹر سائیکل سواروں کے لیے پٹرول سبسڈی کا اعلان کیساتھ حکومت کا ایک اور اقدام،فوری فائدہ اٹھائیں،جا نئے تفصیل















