تہران ( اے بی این نیوز ) پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ ایک حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایرانی میڈیا اور سرکاری حلقوں نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اعلیٰ عسکری عہدیدار کی ہلاکت ایک بڑے دھچکے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ حالیہ حملوں کے دوران پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ذرائع کے مطابق ہلاکت کی تصدیق تو کر دی گئی ہے لیکن حملے کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے مزید معلومات ابھی محدود ہیں۔
یاد رہے کہ مذکورہ عہدیدار کو گزشتہ برس پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کی قیادت سونپی گئی تھی، جب اس سے قبل اسی عہدے پر فائز ایک اور سینئر افسر بھی حملے میں مارے گئے تھے۔ اس طرح قلیل عرصے میں اس اہم شعبے کی قیادت کو مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو سیکیورٹی کے حوالے سے ایک تشویشناک پہلو سمجھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل وہ وزارتِ دفاع کے ایک اہم انٹیلی جنس ادارے میں بھی کلیدی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے اور سیکیورٹی امور میں وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی ہلاکتیں نہ صرف عسکری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں :جب تک سیاسی قیادت چا ہے جنگ جاری رکھ سکتے ہیں،ایران کا امریکہ کو کرارا جواب















