پشاور( اےبی این نیوز ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کے پی کے ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عام آدمی اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کیا گیا، جس کا براہ راست اثر مہنگائی میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غیر ضروری طور پر قیمتوں میں شدید اضافہ کیا، جس سے عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق عالمی سطح پر ایران کی جنگی صورتحال کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم پاکستان میں اس اضافے کی شرح غیر معمولی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 96 ممالک میں قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن ویتنام کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، حتیٰ کہ نائجیریا جیسے ممالک بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ اور کاشتکار ہوتے ہیں، کیونکہ اس کا اثر نہ صرف سفری اخراجات بلکہ زرعی لاگت پر بھی پڑتا ہے، جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاشی معاملات کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی پلاننگ میں واضح کمی ہے اور اہم فیصلے بغیر کسی جامع حکمت عملی کے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت مؤثر ڈیل کرنے میں ناکام رہی ہے اور پارلیمان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کے نام پر عوام کو اصل صورتحال سے دور رکھا جا رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ حکومت شاہ خرچیوں میں کمی لانے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کم نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں مل پا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے عوام دشمن فیصلہ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب قیمتیں کم کرنی ہوتی ہیں تو وزیراعظم خود ٹی وی پر آکر اعلان کرتے ہیں، لیکن جب قیمتیں بڑھانی ہوں تو وزیروں کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرز حکمرانی سے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جو شفافیت کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چار سال میں معیشت کیلئے کوئی مؤثر پالیسی نہیں بنائی گئی اور پلاننگ کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت “فارم 47” کے ذریعے آئی ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جھگڑا نے پیٹرول کی قیمتوں کو تاریخی سطح پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فی لیٹر قیمت 458 روپے تک پہنچ چکی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیا، بنگلہ دیش، ترکی، چین اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں پیٹرول پاکستان سے سستا دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام پر “پیٹرول بم” گرایا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور سب سے زیادہ متاثر متوسط اور غریب طبقہ ہوگا۔ ان کے مطابق کاشتکار بھی اس اضافے سے شدید متاثر ہوں گے کیونکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔تاہم انہوں نے حکومتی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزراء کے مطابق ڈیزل پر اضافی ٹیکس نہ لگانے اور موٹر سائیکل سواروں کو 20 لیٹر تک سبسڈی دینے جیسے اقدامات کو ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کرے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے، ورنہ معاشی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ فری















