تہران (اے بی این نیوز )ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بار پھر سخت اور واضح مؤقف سامنے آیا ہے جہاں ایرانی پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم سمندری راستہ دوبارہ کھولا جائے گا، لیکن مخصوص فریقوں کے لیے نہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز ان جہازوں کے لیے کھلی ہوگی جو ایران کے نئے قوانین اور شرائط کی پاسداری کریں گے، جبکہ غیر موافق فریقوں کے لیے پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اس بیان کو خطے میں میری ٹائم پالیسی میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ اس صورتحال کو بعض حلقے “ریجیم چینج” سے جوڑ رہے ہیں، تاہم ایران کے مؤقف کے مطابق یہ اقدام خودمختاری اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ دہائیوں کی پالیسیوں میں تبدیلی آ چکی ہے اور اب خطے میں تعلقات نئے اصولوں کے تحت آگے بڑھیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول وصول کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں :پٹرول بم تیار،اتنا مہنگا ہو نے جا رہا ہے ،سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے،جا نئے فی لٹر قیمت















